بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹرمپیت (ٹرمپ ازم Trumpism) صرف ٹرمپ کی ذات تک محدود نہیں؛ بلکہ یہ امریکی خارجہ پالیسی کا ایک طریقہ ہے جس میں "طاقت" کو "بات چیت" پر مقدم رکھا جاتا ہے، "دباؤ" سودے بازی (کچھ لو کچھ دو) کا ذریعہ بنتا ہے، اور اپنے ناجائز مقصد کا حصول، پالیسی کا حتمی مقصد قرار پاتا ہے۔ ایران کے معاملے میں یہ نمونہ باقی تمام معاملات سے زیادہ واضح ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے باضابطہ طور پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی بحال کر دی اور اقتصادی دباؤ ڈالنے، پابندیوں کو سخت کرنے اور ایران کے آمدنی کے ذرائع کو محدود کرنے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا۔ لیکن یہ بنیادی سوال بدستور باقی ہے کہ "کیا دباؤ سے کسی قوم کا ارادہ خریدا جا سکتا ہے؟"
دوسری اور آخری قسط:
ایران کا مسئلہ؛ قوم اور منڈی میں فرق
لیکن اس طرح کے رویئے میں ممکنہ غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ممالک کو اقتصادی حساب کتاب کے مجموعے کے طور پر سمجھا جائے۔
ایران صرف ایک منڈی، ایک معیشت یا اقتصادی اشاریوں کا ایک مجموعہ نہیں۔ ایران ایک تاریخ، ایک شناخت، تاریخی یادداشت، حریت پسندی اور غیر ملکی مداخلت کے بارے میں گہری حساسیت کا نام ہے۔
اسی لئے قومیں ہمیشہ کمپنیوں کی طرح سودے بازی اور لین دین نہیں کرتیں۔
ممکن ہے کوئی ملک اقتصادی میدان میں دباؤ سے دوچار ہو جائے لیکن دوسرے میدان میں اپنے موقف پر ڈٹا رہے؛ کیونکہ قومی فیصلے صرف اقتصادی حساب کتاب کے تابع نہیں ہیں۔
زیادہ دباؤ لازمی طور پر مطلوبہ نتیجے پر نہیں منتج نہیں ہوتا
حتیٰ امریکی خارجہ پالیسی میں بھی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی تاثیر پر بحث ہوتی رہی ہے۔ ناقدین نے اس پالیسی کے ایران اور خطے کے رویئے پر اثرات کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں؛ جبکہ امریکی حکام نے اس کی تاثیر کی وکالت جاری رکھی ہے۔ لہٰذا "پالیسی کی کامیابی کے دعوے" اور "اس کے پائیدار نتیجے کا اثبات" میں فرق کا قائل ہونا چاہئے۔
یہ فرق اہم ہے۔
پابندی دباؤ پیدا کر سکتی ہے؛ لیکن دباؤ پیدا کرنا سیاسی مقصد کے حصول کے برابر نہیں ہے۔
دھمکی لاگت پیدا کر سکتی ہے؛ لیکن لاگت پیدا کرنا مخالف فریق کے ارادے کو تبدیل کرنے کے برابر نہیں ہے۔ اور فوجی حملہ کسی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے؛ لیکن کسی معاشرے کے طویل مدتی فیصلوں پر اس کا اثرانداز ہونا، زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔
دنیا، قلیل مدتی سودے بازیوں کا میدان نہیں
پائیدار خارجہ پالیسی صرف فوجی اور اقتصادی طاقت سے نہیں بنتی۔ اعتماد، ساکھ، بین الاقوامی ذمہ داریاں، اور پیش گوئی کے قابل ہونا (Predictability) ممالک کی طاقت کے اجزاء ہیں۔
امریکہ کے بعض اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں حالیہ تبدیلیوں نے بھی عیاں کر دیا ہے کہ ٹیرف اور سودے بازی پر مبنی رویئے طویل مدتی تعلقات کے لئے اخراجات پیدا کر سکتے ہیں اور انہیں مہنگا بنا دیتے ہیں۔
جو طاقت آج دباؤ کے ذریعے رعایتیں حاصل کرتی ہے، اگر وہ کل کا اعتماد برقرار نہ رکھ سکے تو اپنے اسٹریٹجک سرمائے کا کچھ حصہ ضرور کھو دیتی ہے۔
اصل مسئلہ ٹرمپ نہیں؛ مسئلہ ٹرمپیت کی منطق ہے
ٹرمپ ایک دن وائٹ ہاؤس سے بے دخل ہو جائے گا؛ لیکن اس کے باوجود ایک زیادہ اہم سوال باقی رہتا ہے:
کیا امریکی خارجہ پالیسی پھر بھی اس تصور پر قائم رہے گی کہ پابندی، دھمکی اور فوجی طاقت دوسروں کو واشنگٹن کے مطلوبہ معاہدے قبول کرنے پر مجبور کر سکتی ہے؟
ٹرمپیت، اس معنی میں، کسی فرد کے نام سے زیادہ ایک سیاسی منطق کی آزمائش ہے؛ مگر اس منطق کے مقابلے میں، آج کی دنیا اتنی پیچیدہ ہے کہ تمام اقوام کو مذاکرات کی میز پر لانا اور ان میں سے ہر ایک کے لئے کوئی قیمت مقرر کرنا ناممکن ہے۔
اس فارمولے میں، سعودی عرب مذاکرات میں محض ایک فریق نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جس کے اپنے مفادات، شناخت، علاقائی صلاحیتیں اور آزادانہ اور غیر وابستہ منصوبے ہیں۔
اختتامی نکتہ:
شاید ان دنوں امریکی پالیسی سازوں کے لئے سب سے اہم سبق یہی ہے:
دباؤ لاگت پیدا کر سکتا ہے؛ لیکن لازمی طور پر ارادہ نہیں بناتا۔ دھمکی خوف پیدا کر سکتی ہے؛ لیکن لازمی طور پر اعتماد پیدا نہیں کرتی۔ اور لین دین بازی اس وقت پائیدار ہوتی ہے جب دونوں فریق اسے منتخب کریں، نہ یہ کہ ایک فریق اسے دوسرے پر مسلط کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: رضا معممی مقدم
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ